زامران جالگی میں ڈیتھ اسکواڈ سے جھڑپ میں دو سرمچار شہید ہوئیں : بی ایل ایف

124

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے شہید حسین شہسوار،حنیف لعل کو سرخ سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ
کل زامران کے علاقہ جالگی میں بلوچ سرمچاروں اور پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کی تشکیل کردہ ڈیتھ اسکواڈ(جو منشیات فروشی کاکاروبار بھی کرتے ہیں) کے کارندوں کے مابین مْڈبھیڑ ہوئی جس میں بلوچ سرمچار حسین شہسوار عرف چیسل اور حنیف لعل عرف استاد شوھاز شہید ہوئیں جبکہ ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے تین کارندوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ھم شہداء کو خراج عقیدت اور سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے قومی محکومی کے خلاف جدوجہد اور قومی آزادی کو اپنا مقصد بنایاتھااور آخر دم تک قومی آزادی کی عظیم مقصد پر قائم رہے۔
یاد رہے مذکورہ علاقہ مشرقی اور مغربی بلوچستان کے سرحد پر واقع ہے جہاں روزگار کے کوئی اور ذرائع نہیں ہیں زیادہ تر لوگ تیل اور تیل کی مصنوعات کا کاروبار کرتے ہیں۔ پہلے فرنٹئیر کور کاروباری لوگوں کو تنگ کرکے ان سے بھتہ لیتا تھامگر بلوچ سرمچاروں کی سرگرمیوں کے باعث ایف سی کیلئے بھتہ خوری ممکن نہ رہا تو پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کی سرپرستی میں ان کے کارندے کاروباری لوگوں کو تنگ کرکے ان سے بھتہ لینے لگے۔ اس کے علاوہ اس دور دراز علاقہ کو ریاستی سرپرستی میں منشیات فروش گزرگاہ کے طورپر استعمال کرتے رہے ہیں اور گزشتہ چند دنوں سے مذکورہ علاقہ میں ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں اور منشیات فروشوں کے سرگرمیوں کی اطلاعات تھیں۔ کل بلوچ سرمچار علاقہ میں گشت پر تھے کہ قریبی پہاڑیوں پر پہلے سے مورچہ بند ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے ان پر فائرنگ شروع کی ۔ ہم ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں،بھتہ خوروں اور منشیات فروشوں کو تنبیہہ کرتے ہیں کہ کاروباری لوگوں کو تنگ کرنا، بھتہ خوری اور منشیات فروشی کا قوم دشمن راہ ترک کریں ورنہ ان کا انجام بْرا ہوگا۔

دریں اثناء بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے ضلع کیچ میں سی پیک روٹ پر فوجی قافلے پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے نامعلوم مقام سے میڈیا میں جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ بدھ چار جولائی کے شام پانچ بجے سرمچاروں نے ضلع کیچ میں ہیرونک اور تجابان کے درمیان پنگنوکی ندی میں فوجی قافلے کی تین گاڑیوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، ایک گاڑی حملے کی زد میں آئی جس میں سوار تین اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔

گہرام بلوچ نے کہا کہ پاکستانی فورسز پر حملے مقبوضہ بلوچستان کی آزادی تک جاری رہیں گے۔