اسلام آباد : چار ممالک کی خفیہ اداروں کا اہم اجلاس منعقد

91

پاکستان نے بدھ کے روز خفیہ اداروں کے سربراہوں کے ایک ایسی کانفرنس کی میزبانی کی جس کی اس سے پہلے کوئی نظیرموجود نہیں ہے۔

اس کانفرنس میں روس، چین اور ایران کی خفیہ ایجنسیوں کے اعلیٰ عہدے داروں نے شرکت کی اور ان کی توجہ کا مرکز خاص طور پر شورش زدہ ملک افغانستان میں داعش کے قدم جمانے کی کوششیں تھیں۔

اسلام آباد میں ذرائع نے  کانفرنس کے انعقاد کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ شرکا نے مشرقی افغانستان میں سرگرم جنگجوؤں کی سرگرمیاں روکنے سے متعلق مشترکہ اقدامات پر تبادلہ خيالات کیا۔ افغانستان میں موجود داعش کے عسکریت پسندوں کی وفاداریاں مشرق وسطی ٰ کے دہشت گرد گروپ سے ہیں اور افغانستان کے ساتھ مشترکہ سرحد رکھنے والے یہ چاروں ملک اپنے پڑوس میں داعش کے اجتماع کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

اس اجلاس کا ایک اور غیر معمولی پہلو یہ ہے کہ جو ملک داعش کی دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، وہ اس کانفرنس میں شامل نہیں تھا، یعنی افغانستان۔

ماسکو کی فارن انٹیلی جینس سروس کے ایک ترجمان نے بھی یہ تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد میں یہ اجلاس افغانستان میں داعش کی گروہ بندی سے متعلق تھا۔

سرگئی آوانو نے سرکاری کنٹرول کے میڈیا چینل تاس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کے شرکا نے داعش کے دہشت گردوں کو شام اور عراق سے افغانستان میں جانے سے روکنے کے لیے تعاون پر مبنی اقدام کی اہمیت پر اتفاق کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں داعش کی موجودگی ہمسایہ ملکوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ سرگئی نارشکن نے اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں چین اور ایران کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ شرکت کی ۔ ان سب نے افغانستان میں جنگ ختم کرنے کے لیے علاقائی طاقتوں کی جانب سے زیادہ موثر شمولیت کی اہمیت پر زور دیا۔

اس سے قبل روس یہ إلزام لگاتا رہا ہے کہ شمالی افغانستان میں، جس کی سرحدیں وسطی ایشیائی ملکوں سے ملتی ہیں، داعش کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے۔ امریکہ ان الزامات کو افوائیں قرار دے کر مسترد کرتا ہے۔

پچھلے مہینے اقوام متحدہ کے لیے روس کے سفارت کار واسیلی نیبنزیا نے افغانستان پر سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں کہا تھا کہ داعش افغانستان میں اپنے تربیتی مراکز قائم کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں اس گروپ کے 10 ہزار کے قریب جنگجو موجود ہیں اور وہ ملک کے 34 میں سے 9 صوبوں میں فعال ہیں۔ وہ ملک کے شمالی حصے میں اپنی موجودگی مستحکم کر رہے ہیں جس سے وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

تاہم افغان عہدے دار اس دعوے کو مبالغہ آرائی قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ملک میں داعش کے جنگجوؤں کی تعداد 2 ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔

ایران، جس کی طویل سرحد افغانستان کے ساتھ ملتی ہے، اسی طرح کا تحفظات کا اظہار کر چکا ہے۔

پاکستانی عہدے دار کہتے ہیں کہ یہ گروپ افغانستان کے ان علاقوں میں اپنے مضبوط ٹھکانے قائم کر رہا ہے جہاں حکومت کی عمل داری نہیں ہے اور وہ وہاں سے سرحد پار حملوں کی منصوبہ بندی کر نے کا ارادہ رکھتا ہے۔

امریکہ کے ایک فوجی تجزیے میں بتایا گیا تھا کہ افغان حکومت کے کنٹرول میں ملک کا 60 فی صد سے بھی کم علاقہ ہے۔

تاہم اسلام آباد، ماسکو، بیجنگ اور تہران کے طالبان کے ساتھ رابطے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصدا فغان جنگ کا بات چیت کے ذریعے حل ڈھونڈنے کی کوشش کرنا ہے۔

لیکن کابل اور واشنگٹن ان سفارتی رابطوں کو تشویش کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔