زاہد بلوچ، ایک سنگت ایک لیڈر – ساجدہ بلوچ

161

زاہد بلوچ۔۔۔۔ایک سنگت ایک لیڈر

تحریر: ساجدہ بلوچ (بی این ایم)۔

دی بلوچستان پوسٹ

تاریخ گواہ ہے کہ اس معاشرے میں چند ایسے شخصیات نے جنم لیا جو بقائے انسانی کے لئے سنہرے باب نقش کر گئے۔مختلف النوع اقسام کے کارہائے نمایاں سرانجام دینے والے ان عظیم شخصیات کو دنیا تا قیامت یاد رکھے گی۔اس خطہ کائنات میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہیں انسانیت عزیز تھی جو کسی بھی رنگ نسل مذہب یا فرقہ سے مبرا تھے جو صرف انسانیت کی بقاء کے لئے زندہ تھے۔اور چند ایسے ہستیاں بھی ہیں جنہوں نے اپنے منتشر قوم کو یکجاء کیا انہیں نظریہ دیا ان کی رہنمائی کی۔

کہنے کو اگر کہا جائے تو ہم بھی اس خطے کائنات کے ایک گوشے میں رہنے والی وہ قوم ہیں جنہیں اکیس ویں صدی میں بھی اپنی شناخت بچانے کے لئے تگ و دو اور جدوجہد کے مختلف مراحل سے گزر کرنا پڑرہا ہے ان پر پیچ راہوں میں چند ایسے شخصیات نے جنم لیا جنہوں نے اپنی زندگی کا مقصد اپنی قوم کی بقاء اور تشخص بچانے کے لئے وقف کر رکھا تھا ان شخصیات میں ایک سنگت زاہد بلوچ ہیں جنہوں نے ایک عظیم مقصد کے لئے اپنے آپ کو وقف کر رکھا تھا انہوں نے زمانہ طالب علمی میں وہ نمایاں کام سرانجام دیئے جن پر اگر نگاہ ڈالا جائے تو ان میں ایک لیڈر ہونے کے تمام فن دکھائی دیں گے۔

یہی وہ وجہ تھی کہ سنگت زاہد بلوچ نے دن دیکھی نا رات نا سردیاں دیکھیں اور نا ہی گرمیاں کبھی وہ بولان کے بہار میں اپنے قوم کو یکجاء کرنے کی تگ و دو کررہے تھے تو کبھی ہم نے دیکھا کہ شال کی ٹٹرتی سردیوں میں سریاب کے سڑکوں پر ایک ملنگ دکھائی دیتا تھا اور کبھی کبھار ہم نے سبی و مکران کی بلبلاتی گرمیوں میں بھی اس مرد مجاہد کو اسی جزبے اور جوش سے دیکھا کہ وہ ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کررہا۔

ہم حیران تھے کہ وہ اپنی مقصد اور کاز کے لئے اتنے جنونی تھے کبھی کبھار ان کی تربیت اور رہنمائی سے ایسا لگتا تھا کہ وہ جزباتی ہیں لیکن در اصل یہ وہ خلوص تھی جس سے انہیں سرزمین سے عشق تھا اپنے عوام سے عشق تھا اپنے دوستوں سے عشق تھا۔وہ ایک مکمل لیڈر تھے۔وہ خودبھی متحرک تھے اور بیک وقت اپنے لوگوں کواپنی کاز کے لئے متحرک کرتے تھے۔انہوں نے طلباء و طالبات کو جدوجہد کی نئی راہیں سکھائیں اس پر آشوب و سخت حالات میں بھی ان کے قدم نہیں ڈگمگائے۔

کہتے ہیں کہ لیڈر وہ ہوتا ہے جو متحرک کرتا ہے جو ایسے فیصلے کرتا ہے جس سے اس کی جماعت پر مثبت اثرات مرتب ہوں اور جوکہ مختلف النوع افراد کی ایک ٹیم کو ایک مشترکہ مقصد کے لئے کام کرنے پر آمادہ کرتا ہو۔زاہد بلوچ میں قیادت کرنے کی تمام خوبیاں موجود تھیں اور وہ قیادت کررہے تھے ان تمام طلباء و طالبات کی جو ایک عظیم مقصد رکھتے تھے۔قیادت کا ایک اہم وصف بصیرت یعنی ویژن ہوتا ہے یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ بصیرت رکھے بغیر کسی بھی گروہ یا جماعت کا لیڈر بننا ممکن نہیں اور بصیرت کا برائے راست تعلق مثبت سوچ اور مثبت بات کے ساتھ ہوتا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ بصیرت میں ہم اپنی سوچ اور بات کو اگلے درجے تک لے جاتے ہیں۔

صاحب بصیرت لیڈر اکثر اپنی تنظیم یا میدان میں جدت پیدا کرنے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں اور سنگت زاہد بلوچ نے بی ایس او کو ایک جدت اور نئی ڈگر پر چلانے کی ہمت کی تھی اسی لئے تو دشمن اور اس کے حواریوں کے سامنے وہ ایک بڑی رکاوٹ تھیں جیسا کہ ایک سیسہ پلائی دیوارہوں اسی لئے تو اس رکاوٹ کو آخر کار ریاست اور اس کے خفیہ اداروں نے 18مارچ2014کو شال سے اغواء کیا اور انہیں ایک طویل گمشدگی میں مبتلا کردیا۔اور آج بلوچ طلباء ایک عظیم قیادت سے محروم ہیں جو ریاستی اذیت گاہوں میں مرگ و زیست کی گھڑیاں گن رہا ہے۔

کہتے ہیں کہ خوف اذیتیں شہادت عظیم مقصد کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے ہمارا دشمن شاید یہ بھول چکا ہے کہ بلوچ نے یہ فیصلہ اس وقت کیا تھا جب دشمن بلوچ سرزمین پر قابض ہوچکا تھا ہمارا نظریہ وژن ہی دشمن کی شکست کا واضع ثبوت ہیں بلوچ طلباء و طالبات سمیت ہر وہ بلوچ جو ایک قومی وژن رکھتا ہے جنہیں اپنی سرزمین عزیز ہے وہ زاہد بلوچ سمیت ان تمام لاپتہ افراد کے لئے آواز بلند کریں دعا کریں جو ریاستی عقوبت خانوں میں بلوچ ہونے کی سزا بھگت رہے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here