میں، وہ، خاموش پہاڑ اور چشمہ – وطن دوست

136

میں، وہ، خاموش پہاڑ اور چشمہ

تحریر: وطن دوست

میری زندگی کا وہ خوبصورت ترین دن، مجھے ہر وقت بے چین کر دیتا ہے لیکن جب کبھی بھی میں پریشان ہوجاتا ہوں تو انہی یادوں کا سہارا لیکر خوش ہو جاتا ہوں، جو مجھے ہر پریشانی سے دور ایک الگ دُنیا کی طرف لے جاتے ہیں، جہاں نہ کوئی پریشانی اور نہ کوئی غم ہے صرف بے چینی اور انتطار ہے…

یہ وہی دن تھا، جب میں نے اپنی بوریت دور کرنے کیلئے قریبی پہاڑ جانے کا ارادہ کیا جہاں ایک خوبصورت چشمہ بہتا ہے، جو میرا پرانا دوست بھی ہے اور میری بوریت، پریشانی اور بے چینی ختم کرنے کا واحد ذریعہ رہا ہے۔ میں عام لوگوں کی دُنیا سے دور اپنی دنیا میں مگن بیٹھا چشمے سے سرگوشیاں کر رہا تھا، نہ کوئی غم نہ پریشانی اور نہ ہی کوئی بے چینی اور بوریت تھی. لیکن اچانک میری دنیا ایک الگ اور یکتا دُنیا میں تبدیل ہو گیا، جسکے سائے تلے آج تک میں جی رہا ہوں۔.

اچانک میری بائیں جانب تھوڑی دور چار نوجوان نمودار ہو گئے، جو اندازاً 25 سے 30 سال کے لگ رہے تھے، میں انہیں دیکھ کر ڈر گیا لیکن دل میں کچھ اور احساسات جنم لینے لگے جو لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتے۔.

وہ میرے قریب آنے لگے، کافی نزدیک آئے میں نے دیکھا وہ مسلح تھے تو میرا ڈر اور بڑھ گیا لیکن اُنکی حالات دیکھ کر تھوڑا اطمینان سا ہو گیا، پٹھے پُرانے کپڑے، ہونٹوں پر مُسکراہٹ اور آنکھوں میں ایک عجیب روشنی جو شاید مستقبل سے پُر اُمید لگ رہے تھے…

مُسکراتے ہوئے ایک نے سلام کیا، بلوچی حال احوال کے بعد میرے چہرے کے تاثرات سمجھ کر بولنے لگے “گبھراؤ مت سنگت ہم آپ کے اپنے ہیں، آسان الفاظ میں ہمیں بلوچ سرمچار کہتے ہیں، ہم سے ڈرو مت ہم آپ لوگوں کیلیے اپنا گھر بار چھوڑ کر مادرِ وطن کی آذادی کیلئے کمربستہ ہیں.(یہ سُن کر میں خوشی سے اچھل گیا کیونکہ میرا دیرینہ خواہش تھا کہ بلوچ سرمچاروں کو دیکھوں) پھر اُس نے میرا نام پوچھا، “میں نے کہا میرا نام وطن دوست ہے.” میرا نام سُن کر وہ بہت خوش ہو کر کہنے لگے “آپ کا نام بہت پیارا ہے لیکن…”

میں لیکن کا مقصد فوراً سمجھ گیا، وہ سوچ رہے تھے کہ آیا یہ صرف نام کا وطن دوست ہے یا پتہ نہیں کیسے، اچانک میں خوشی سے بولنے لگا “پیارے بھائیوں آپ کو دیکھ کر میں اتنا خوش ہوں کہ انکا اظہار کرنے کیلئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کیونکہ میرا دیرینہ خواہش رہا ہے کہ بلوچ سرمچاروں کو دیکھوں جو آج آپ لوگوں کی مہربانی سے پورا ہو گیا.” پھر وہ کہنے لگے ” آپ کو دیکھ کر ہم بھی اتنا خوشی محسوس کر رہے ہیں جسکا بیان نہیں ہو سکتا کیونکہ آپ ہمیں دیکھنے جتنا بیتاب رہے ہو ہم آپ جیسے ہمنواؤں کو دیکھنے کیلیےہزار گُنّا زیادہ بیتاب ہو کر ترس رہے ہیں، ہم بس یہی چاہتے ہیں کہ ہمارا بلوچ قوم ہمارے جنگ کو سمجھیں اگر کوئی بلوچ ہمیں دو گھونٹ پانی نہیں دے سکتا، تو کم از کم ہمیں زھر نہیں دے دیں، عزیز دوست! جتنا درد و زخم ہم اپنوں سے کھا چکے ہیں، وہ ہمیں انگریز سے لیکر قابض پنجاب نا دے سکی ہے نا دے سکتی ہے”

یہ سُن کر میری آنکھیں نم ہو گئے، پھر میں نے ان سے کہا “آپ آج میرے مہمان ہو میرا گھر یہاں بہت نزدیک ہے آپ نے آج میرے ساتھ کھانے کیلئے ضرور آنا ہے.”

وہ بہت خوش ہو کر کہنے لگے، ” پُل مرچی ما سک اشتاپی ایں، مارا دُور رَوگی انت اگاں زندگی بوت الّم تئی نانے ورگءَ کایں، بلئے مرچی مارا اجازت بہ دئے کہ ما مجبور ایں، مئے دل ھم لوٹ ایت تئی پیمیں ھمبلانی گوما الّم بیایں بلئے کار باز انت ءُ کار ھم کنگی انت.”

یہ سُن کر میں صرف یہی کہہ سکا” الّٰلہ آپ کو سلامت رکھیں اور آپ اپنے مقصد میں جلد کامیاب رہیں.”

یہ سُن کر وہ بہت خوش ہوئے اور مُجھ سے اجازت لیکر روانہ ہوتے ہوتے کہنے لگے کہ ہمارے بارے میں کسی سے بات نہیں کرو…”

پہلے مجھے تھوڑا غُصہ آیا کہ یہ میرے لیے فخر کی بات ہے کہ میں نے بلوچ سرمچاروں کو دیکھا ہے، کیسے اپنے دوستوں کو نہیں بتاؤں لیکن پھر میں سمجھ گیا کہ وہ جس راستے کے مُسافر ہیں اُنکے بارے میں دوستوں سے ذکر کرنا انکے لئے نُقصاندہ ہو گا۔.

وہ اپنے منزل کی طرف جا رہے تھے اور جب تک وہ نظروں سے غائب نہیں ہوئے میں اُنکو دیکھتا رہا…

پھر میں نے واپس گھر آ کر ایک بکری خریدا اور بلوچ سرمچاروں کی سلامتی اور کامیابی کیلئے قربان کر دیا…

اور آج تک میں انتظار میں ہوں کہ کب آئیں گے، جب رات اپنےسیاہ چادر سے آسمان کو ڈھانپتا ہے تو ہوائیں مجھ سے سرگوشیاں کر کے وہی یادیں تازہ کرتی ہیں…

میں ہر روز بے چین ہو کر اسی چشمے پر جاتا ہوں لیکن اب چشمہ میری بے چینی دور نہیں کر سکتا…

کبھی کبھی دل ہی دل میں کہتا ہوں کہ وہ جھوٹے تھے، اُنہوں نے کہا تھا کہ آئیں گے لیکن ابھی تک میں صرف انتظار کرتا رہا ہوں لیکن پھر خیال آتا ہے کہ وہ جس راستے کا مُسافر ہیں پتہ نہیں کس حال میں ہیں، .یہ سوچ کر میں اپنے آپ کو ملامت کرتا ہوں…

اب صرف اُنکی راہیں میری زندگی کی سبب بن گئے ہیں اور میں اُسی دن سے لیکر آج تک انتظار میں ہوں اور کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ یہ سرمچاروں سے میری پہلی اور آخری مُلاقات تھی..

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here