ماں اور مادرِ وطن – قمبر زہری

180

ماں اور مادرِ وطن
افسانہ

تحریر: قمبر زہری

میری ماں مجھ سے پوچھ رہی تھی کہ بیٹا یہ جو دو نوجوان زہری تراسانی میں شہید ہوئے یہ کون تھے؟

قمبر: ماں آپ جن شہیدوں کے بارے میں پوچھ رہی ہو، وہ دونوں میرے اُستاد، میرے بانی میرے روح، میری پہچان دلجان اور بارگ تھے. دلجان زہری اور بارگ خاران کا تھا.

آپ کو یاد ہوگا ماں، ایک ماہ پہلے ہمارے گھر دو مہمان آئے تھے؟ میں نے آپ کو کہا تھا کہ ماں یہ جو مہمان ہمارے یہاں آ رہے ہیں، ان سے ملنے کیلئے لوگوں کو لمبا عرصہ لگ جاتا ہے، پھر ان لوگوں تک پہنچ پاتے ہیں اور ہم خوش نصیب ہیں کہ یہ لوگ خود چل کر ہمارے گھر مہمان بن کر ابو سے ملنے آ رہے ہیں۔ یاد ہے آپ نے کہا تھا کہ ایسی کیا خوبی ہے ان میں کہ آپ آج بہت خوش اور فخریہ انداز میں مجھ سے بات کر رہے ہو ان کے بارے میں جن کو آپ نے دیکھا بھی نہیں ہے؟ ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے آپ نے کہا تھا کہ یہ لوگ کون ہیں کوئی سردار یا نواب؟ میں نے کہا تھا کہ نہیں ماں یہ لوگ ہمارے مستقبل کے کاریگر ہیں، یہ درویش ہیں، یہ تو میرو نوابی جیسے نظام سے کب کا بغاوت کر چکے ہیں اور ہمارے لئے اپنی جان بازی پہ لگا کر ہمیں آزاد کرنے والے لوگ ہیں، جن کو میں اپنا یار، سنگت سمجھتا ہوں اور ان جیسے سنگتوں کے پاوں جس جگہے پر لگ جائے وہ سرزمین مقدس بن جاتا ہے اور آج یہ دو جانباز ہمارے گھر میں مہمان بن کر آئیں گے ہمارے گھر میں درس چھوڑ جائیں گے اور وہ درس چھوڑ گئے.

ماں:کون تھے یہ دونوں بہادر کہاں کے تھے؟

قمبر: ماں یہ دونوں سرزمینِ بلوچستان کے نڈر بیٹے تھے. انہیں اس قدر اپنے جہد اور وطن سے محبت تھا کہ دشمن کے سامنے گرفتاری دینے سے خود کو اپنے ہی بندوق کے آخری گولی سے فنا ہونا بہتر سمجھ کر ہمیشہ کیلئے رخصت ہوگئے.

ماں: آپ ہر روز مجھے کہتے ہو کہ ماں سرمچاروں پہ میں قربان ہو جاؤں، آپ ان کیلئے دعا کریں، کہیں یہ وہی لوگ تو نہیں؟

قمبر: جی ہاں ماں یہ اسی کاروان کے محبِ وطنوں میں سے تھے، جن پہ مجھے فخر ہے، یہ وہی لوگ ہیں، جن کی وجہ سے آج میں بلوچ ہوں، میری دنیا میں ایک پہچان ہے، ثقافت ہے تہذیب ہے، تاریخ ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کی وجہ سے میں ایک مقصد کیلئے جی رہا ہوں، وہی مقصد جس سے مجھے امیر، دلجان اور بارگ نے آگاہ کیا تھا۔

ماں: بیٹا کہیں تم سرمچار تو بننے نہیں جا رہے ہو؟

قمبر: ماں بس آپ دعا کرو کہ مجھے دلجان جیسا حوصلہ مل جائے، بارگ جیسا صبر نصیب ہو، امیر جیسا بہادری عطا ہو، میں بھی سرمچاروں کے ہمراہ ان کے کارواں کا حصہ بنوں.
بس ماں آپ دعائیں دےکر مجھے اس راہ پر اب روانہ کردو کہیں دیر نہ ہو جائے.

ماں: جا بیٹا تمہیں تمہاری منزل مل جائے، مجھے فخر ہوگا جب آپ اپنے مادر وطن کا بیرک ہاتھ میں لئے اپنے فتح اور دشمن کی شکست پر جشن مناتے آؤگے. مجھے فخر ہے کہ میرا قمبرو اُس دلجان کے نقشِ قدم پر ہوگا، جس کو اپنی ماں سے زیادہ دھرتی ماں سے محبت تھا، جا بیٹا تمہیں میں کیسے روک سکتا ہوں، جا اور اپنے دھرتی کو آزاد کر کے لوٹ آنا. دلجان کے ماں جیسی ہمت تو ہم میں نہیں، اگر چار آنسو آپ کے پہاڑوں کے جانب روانگی میں میری آنکھوں سے گرے تو اسے میری کمزوری مت سمجھنا.

قمبر: جانتا ہوں ماں آخر ماں ہی تو ہو.

ماں: جانتی ہوں بیٹا، مگر پہلے مادر وطن، پھر یہ بد نصیب بلوچ ماں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here