روس کا امریکہ پر ایران میں مداخلت کا الزام

197

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے واشگٹن کی گزارش پر ایران میں جاری پُڑ تشدد مظاہروں پر اجلاس سے قبل ہی روس نے امریکا پر ایران میں مداخلت کا الزام عائد کردیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے انٹر فیکس نیوز ایجنسی کا حوالے دیتے ہوئے بتایا کہ روس کے نائب وزیر خاجہ سرجئی ریبکوف کا کہنا تھا کہ امریکا دیگر ممالک کے داخلی امور میں کھلے عام اور خفیہ، دونوں طریقوں سے مداخلت کر رہا ہے۔

روس کے نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل میں ایران کے داخلی امور پر اجلاس طلب کرنے کے امریکی قدم کو ہم اس ہی نظر سے دیکھتے ہیں۔

انہوں نے واشنگٹن پر الزام عائد کیا کہ وہ دیگر ممالک کی خود مختاری پر جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام پر حملے کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ ایران کے شہر مشہد میں اقتصادری مسائل اور حکومت کے شاہانہ طرز زندگی کے خلاف جمعرات (28 دسمبر) کو مظاہروں کا آغاز ہوا اور جب مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی گئی تو وہ جلد ہی حکومت مخالف مظاہروں میں تبدیل ہوگئے جس کے نتیجے میں اب تک 21 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایرانی عوام کو ان کی حکومت واپس دلانے کا اعلان کردیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے 2015 میں ایران سے کیے گئے جوہری معاہدے پر بھی سوالات اٹھا رکھے ہیں۔

روسی خبر رساں ادارے کے مطابق سرجئی ریبکوف کا کہنا تھا ’اگر امریکا اس معاملے میں ایرانی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے وجوہات کی تلاش کر رہا ہے، جو ہمیں لگتا ہے کہ یہ ایساہی چاہتا ہے، تو اس صورت میں ہمیں یہ ہرگز قبول نہیں ہوگا۔