دی بلوچستان پوسٹ اداریہ: اعداد و شمار سے نفی ہوتی ریاستی بیانیہ

302

بلوچستان میں ایک طرف سے مسلسل سرکاری بیانیہ یہ آرہا ہے کہ وہاں حالات مکمل قابو میں ہیں، بلوچ محب وطن ہیں اور اکبر بگٹی کے شہادت کے بعد گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے خاص طور پر وقتاً فوقتاً اب تک ہزاروں کی تعداد میں بلوچوں کو میڈیا میں ہتھیار پھینکتے ہوئے دِکھا کر یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچ قومی (پاکستانی) دھارے میں شامل ہورہے ہیں، یہ بات موضوعِ بحث نہیں کہ بلوچ مزاحمت کاروں کی تعداد کے بابت ہمیشہ سے سرکاری بیانیہ یہ رہا ہے کہ وہ مٹھی بھر ہیں، لیکن ابتک سرینڈر کرنے والوں کی جو تعداد گذشتہ ایک دہائی کے دوران بتائی گئی ہے، انکو جمع کی جائے تو وہ آسانی کے ساتھ پچاس ہزار سے تجاوز کرجائے گی۔

اس دوران جتنے بلوچوں کو شہید و گرفتار کرنے کی دعویں ہیں وہ الگ ہیں۔ لیکن ان تمام دعووں کے باوجود اگر بلوچستان کے حقیقی حالات کا جائزہ لیا جائے تو بآسانی دیکھا جاسکتا ہے کہ بلوچستان میں ریاستِ پاکستان کی عملداری فوجی چھاونیوں اور ایف سی کیمپوں کے باہر وجود نہیں رکھتا اور اس وقت بلوچ آزادی پسند مزاحمتی تنظیمیں ایک اچھی خاصی قوت کے ساتھ بلوچستان میں موجود ہیں۔

بلوچستان میں پاکستان پرست سیاستدان و وزراء ہوں، سی پیک پر کام کرنے والے ورکرز ہوں، چینی انجینئرز ہوں، پاکستان کا جھنڈا لہراتا کوئی اسکول ہو یا پھر خود فوج ہو کوئی بھی بغیر مکمل سیکیورٹی اور چوبیس گھنٹے فوجی نگرانی کے بلوچ مزاحمت کاروں کے حملوں سے محفوظ نہیں ہے۔ بلکہ اتنی سیکیورٹی کے باوجود بھی آئے روز سیکیورٹی فورسز خود بڑی تعداد میں حملوں کا شکار ہوتے ہیں۔

انہی حالات کی تصدیق گذشتہ دنوں پاک انسٹی ٹیوٹ آف پیس اسٹیڈیز نے اپنی سالانہ سیکیورٹی رپورٹ میں بلوچ قوم پرستوں کو پاکستان کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے کی، گوکہ انکے پیش کردہ اعدادو شمار پاکستانی اداروں سے حاصل کیئے گئے ہیں جو انتہائی کم اور درست نہیں ہیں لیکن پھر بھی وہ کسی حد تک حقیقت واضح کررہے ہیں، انہوں نے بلوچستان کو ایک خطرناک علاقہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے کُل حملوں کے 37 فیصد حملے بلوچ قوم پرست مزاحمت کار کرتے ہیں۔ اس ادارے نے واضح الفاظ میں بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچستان لبریشن فرنٹ کو پاکستان کیلئے مہلک خطرہ قرار دیا ہے۔

دوسری طرف آج کے ہی روز بلوچ آزادی پسند مزاحمتی تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے ” دَک ” کے نام سے اپنے کاروائیوں کی سہ ماہی رپورٹ جاری کرتے ہوئے، اس گمان کو اور مستحکم کیا ہے کہ بلوچستان میں آزادی پسند تنظیمیں کمزور ہونے کے بجائے مزید منظم ہوتے جارہے ہیں۔

”بلوچ لبریشن آرمی کی سہ ماہی مسلح کارروائیوں کی رپورٹ ”دک اردو

بلوچ لبریشن آرمی کے نشرونشاعتی ادارے بلوچ لبریشن وائس کی جانب سے سہ ماہی رپورٹ ” دک” کے نام سے جاری ہوتی ہے۔ ” دک” کے اعداد و شمار کے رو سے 14 اکتوبر 2017 سے لیکر 26 دسمبر 2017 تک کے قلیل دورانیے کے دوران بی ایل اے نے 17 حملے کیئے ہیں۔

بلوچ لبریشن آرمی کے ان حملوں میں مصدقہ طور پر سترہ فوجی اہلکار ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں جبکہ غیر مصدقہ اعداد و شمار کئی گنا زیادہ ہیں، اسی طرح پانچ حملے مخبروں اور انڈر کور ایجنٹس یا انکے ٹھکانوں پر ہوئے ہیں جن میں تین ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

بی ایل اے نے 25 اکتوبر 2017 کو بلوچستان کے علاقے حب میں اخبارات کے دفتر پر بھی حملہ کیا اور اسکے بعد کہا تھا کہ یہ دستی بم حملہ ایک تنبیہہ ہے کہ صحافتی تنظیمیں اور تمام اخبارات و الیکٹرانک میڈیا و کیبل مالکان بلوچستان میں ریاست کے دباو سے آزاد ہوکر ذمینی حقائق کے حوالے سے اپنا غیر جانبدارانہ کردار ادا کریں۔

BLA releases quarterly record of armed activities in Dhakk Magazine

واضح رہے کہ یہ تمام کاروائیاں صرف بلوچ لبریشن آرمی کی طرف سے ہوئی ہیں، اگر بلوچستان کے باقی تمام مزاحمتی تنظیموں بلوچستان لبریشن فرنٹ، بلوچ ریپبلکن آرمی، یونائیٹڈ بلوچ آرمی، بلوچ ریبلکن گارڈ اور لشکرے بلوچستان کی کاروائیوں کو دیکھائے جائے تو پھر بلوچستان میں ریاستی بیانیہ دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here