تیرہ نومبر، یو م شہداءِ بلوچ

152

: تیرہ نومبر، یو م شہداءِ بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ اداریہ

مشرقِ وسطیٰ ، جنوبی اور وسطی ایشیاءکے عین وسط میں واقع سر زمین بلوچستان میں ہزاروں سالوں سے بلوچ ایک قوم کی صورت میں بس رہے ہیں۔ 13 نومبر 1839تک بلوچستان ایک آزاد و خود مختار ریاست کے صورت دنیا میں وجود رکھتا تھا۔ لیکن 13 نومبر9 183 کے بعد سے آج تک بلوچ گذشتہ 178 سالوں سے ، اپنی آزادی کھونے کے بعد مسلسل آزادی کے بحالی کیلئے جدوجہد کررہے ہیں ۔ گو کہ اس بیچ بلوچ سات ماہ تک آزادی سے رہنے میں کامیاب ہوئے لیکن یہ مختصر دورانیہ محض ایک قابض سے دوسرے قابض کے ہاتھوں قبضہ منتقلی کا دورانیہ ثابت ہوا۔ اسی دوران ہی یہ بلوچ سر زمین اغیار کے مختلف معاہدوں کے تحت استعماری لکیروں کے زد میں آکر تین حصوں میں بٹ گئی۔

بلوچ واحد قوم نہیں ، جو طاقتور قوموں کے جارحیت کا شکار ہوکر اپنی آزادی سے محروم ہوگیا بلکہ ہمارے سامنے تاریخ میں خاص طور پر کالونیلزم کے دور میں کئی اقوام کی مثالیں موجود ہیں ، جو بلوچوں کی طرح ہی اپنے آزادی سے محروم کردیئے گئے ۔ اس کے باوجود بلوچ ان باقی اقوم سے ممتاز ہی رہی کیونکہ ، بلوچ ان گنے چنے قوموں میں سے ایک ہے ، جو 178 سالوں کے اس طویل دورانیے کے باوجود، ابھی تک اپنے جداگانہ شناخت کے ساتھ زندہ ہے ، ابھی تک اپنے جدا زبان ، ثقافت ، قومی پہچان ، قومی عصبیت اور اپنے زمین پر اپنی اکثریت کو سنبھال کر رکھا ہوا ہے ۔ بلوچوں کے بر عکس بہت سے اقوام وقت کے ساتھ قابض میں ضم ہوکر معدوم ہوگئے ۔

واحد وجہ، جس کے بنیاد پر بلوچ تاریخ کے اس دھارے میں نا گفتہ حالات کے باوجود گم نا ہوئے وہ مزاحمت و قربانی ہے ۔ 178 سالوں سے بلوچوں نے نا ہی انگریز اور نا ہی پاکستانی قبضے کو تسلیم کیا ہے اور پہلے دن سے لیکر آج تک قبضے کے خلاف اور اپنی آزادی کے بحالی کیلئے جدوجہد کرتا آرہا ہے ۔ باقی اقوام جدوجہد کرکے اسی طرح اپنی شناخت برقرار رکھ سکتے تھے لیکن یہ اتنا آسان نہیں کیونکہ جدوجہد قربانی مانگتی ہے۔ جدوجہد تواتر کے ساتھ خون مانگتا ہے ، جدوجہد ایک نسل سے دوسری نسل تک قربان ہونے کے فلسفے کی منتقلی کا متقاضی ہے ۔

بلوچ قوم کے پاس، اپنے بد نصیبی پر پیٹنے کیلئے شاید بہت سے وجوہات ہوں ، لیکن بلا شک و شبہ جب بات قربانی پر آتی ہے تو بلوچ دنیا کے خوش قسمت ترین قوموں میں سے ایک ہے کیونکہ یہاں ہر وقت قوم و ملت کی آزادی و حفاظت کیلئے بلا غر ض و بلا معاوضہ قربان ہونے کیلئے ہمیشہ ہزاروں فرزند سربکف تیار کھڑے رہے ہیں ۔

جب بھی بلوچستان و بلوچ کی بات آتی ہے تو اغیار کا مکالمہ اسکے وسائل سے شروع ہوکر اسکے ساحل پر ختم ہوتی ہے ، لیکن بلوچ خود جانتے ہیں کہ بلوچستان کا سب سے بڑا اثاثہ ، سب سے بڑی دولت اور سب سے زیادہ قابلِ فخر امر ، قربانی کے جذبے سے سرشار زمین زادے ہیں۔ سو یہ سارا کمال اس خون کا ہے جو بلا جھجھک بلوچ زمین پر اس کے اولادوں نے بہایا ہے ۔ اس لیئے سب سے زیادہ قیمتی ، سب سے زیادہ معتبر ، سب سے زیادہ قابلِ احترام یہی لوگ ٹہرتے ہیں جنہیں شہید کہتے ہیں ۔

انہی بلوچ شہیدوں کو تاابد قوم کے یاد اشتوں میں زندہ رکھنے ، انکے قربانی کے قدر و منزلت کو تسلیم کرنے ، انکے قربان ہونے کے فلسفے کو ایک نسل سے دوسرے نسل تک منتقل کرنے اور انکے مقصد سے تجدید عہد کرنے کیلئے ہر سال 13 نومبر کے دن پوری بلوچ قوم انتہائی عقیدت و احترام کے بلوچ شہیدوں کا دن مناتی ہے۔

13 نومبر کو بلوچ شہداءکا دن منانے کا اعلان 2010 کو بلوچ طلبہ تنظیم ، بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائیزیشن آزادنے کیا، جس کے بعد گذشتہ سات سالوں کے دوران اس دن کو نا صرف بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائیزیشن آزاد بلکہ باقی بلوچ آزادی پسند جماعتیں اور بلوچ عوام از خود مناتی آرہی ہے ۔

2010 سے پہلے بھی بلوچ شہداءکے مناسبت سے دن منائے جاتے تھے ، جو ہر ایک شہید کے برسی کے دن اسی ایک شہید کے مناسبت سے ہوتی تھی ۔ شہداءکی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ہر ایک کا برسی منانا عملی طور پر ناممکن تھا ، اسی وجہ سے تمام شہیدوں کو برابری کے ساتھ ایک ساتھ یاد کرنے کیلئے تیرہ نومبر کا دن چنا گیا ۔

تیرہ نومبر ایک تاریخی پس منظر رکھتا ہے ، یہ وہ دن ہے جب 13 نومبر 1839 کو انگریز استعمار نے بلوچستان پر حملہ کردیا، برطانیہ اس وقت دنیا کا واحد سپر پاور تھا اور بلوچستان ایک انتہائی کمزور ملک، لیکن اسکے باوجود اس وقت بلوچستان کے بادشاہ ، خان محراب خان اپنے چند ایک ساتھیوں کے ہمراہ طاقتوار انگریز کا مقابلہ کرنے نکلتا ہے اور سرجھکانے کے بجائے ساتھیوں سمیت سر کٹوا کر ، مادروطن کے دفاع کیلئے قربان ہونے کے جس فلسفے کی داغ بیل ڈالی وہ آج تک جاری ہے ۔ یہ وہ دن ہے جب ان قربانیوں کے آغاز ہوا، اسی لیئے یہی دن ان تمام شہیدوں کو یاد کرنے کا دن قرار پایا۔

ہر سال کی طرح اس سال بھی بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائیزیشن آزاد سمیت پوری بلوچ قوم قومی جوش و جذبے کے ساتھ
شہیدوں کا دن منائے گی ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here