کرد ریفرینڈم اور محکوم بلوچ – دی بلوچستان پوسٹ اداریہ

0
298

ایک نسل، زبان، تمدن، ثقافت اور مشترکہ تاریخ رکھنے والی کرد قوم 25 سے 35 ملین کی آبادی رکھنے اور مشرقِ وسطیٰ کے اندر چوتھی بڑی قوم ہونے کے باوجود اپنے ایک آزاد ریاست سے محروم ہیں اور ترکی، عراق، شام، ایران اور آرمینیا میں بٹے ہوئے ہیں۔
تقریباً ایک صدی سے قومی ریاست کے قیام کیلئے لڑنے والی کرد قوم، کبھی عالمی قوتوں کے نظر میں نہیں آسکا لیکن حالیہ چند دھائیوں میں وہ اس خطے میں اپنی قوت اور اثرانگیزی کو منوانے میں کسی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ صدام حسین کے خلاف برسرِ پیکار ہونے، ترکی سے لڑنے اور خاص طور پر حالیہ سالوں میں داعش کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑنے کے بعد وہ مشرق وسطیٰ میں اپنی اہمیت منوانے میں کامیاب ہوئے۔

بیسیوں صدی کے آغاز سے ہی کرد اپنی جدا قومی ریاست کردستان کیلئے جدوجہد شروع کرچکے تھے۔ پہلی جنگ عظیم میں سلطنت عثمانیہ کے انہدام کے بعد مغربی قوتوں نے 1920 کے معاہدہ سیوریس میں ایک کرد ریاست کا وعدہ ضرور کیا تھا لیکن تین سالوں بعد ہی انہی مغربی قوتوں نے معاہدہ لاوسین میں وعدے توڑتے ہوئے جدید ترکی کی سرحدیں تشکیل دے دیں اور ایک کرد ریاست کے ممکنہ قیام کو رد کردیا اور انہیں چار ریاستوں میں اقلیت کی صورت رہنے پر مجبور کردیا گیا۔ اسکے بعد 80 سالوں تک جب بھی کرد آزادی کی بات کرتے انہیں بری طرح طاقت سے کچل دیا جاتا۔

حالیہ دنوں میں عراقی کردستان میں آزاد ریاست کیلئے ریفرینڈم نے اب ایک کرد ریاست کے قیام کی تمام امیدوں کو روشن کردیا ہے۔ عراق کے اندر کردوں کی آبادی تقریباً 20 فیصد ہے۔ جو ہمیشہ سے بد ترین مظالم کا شکار رہے ہیں۔ شمالی عراق میں رہنے والے کردوں نے اپنے آزادی کی تحریک کا آغاز 1946 میں برطانیہ کے خلاف ناکام بغاوت سے کیا جس کے بعد کردستان کے موجودہ صدر مسعود برزانی کے والد مصطفیٰ برزانی نے کردش ڈیموکریٹک پارٹی کی داغ بیل ڈالی۔ پر امن سیاست میں ناکامی کے بعد سنہ 1961 میں کے ڈی پی نے مسلح جدوجہد کا آغاز کردیا۔

ستر کی دہائی میں کردوں کو اپنے ہی علاقوں میں اقلیت میں بدلنے کی خاطر کرد علاقوں خاص طور پر تیل کے وسائل سے مالا مال کرکوک میں عراقی حکومت نے بڑی تعداد میں عربوں کی آبادکاری شروع کردی اور جبری طور پر کردوں کو ان علاقوں سے بیدخل کرنا شروع کردیا۔ جس کے ردعمل میں 1980 کے ایران-عراق جنگ میں کردوں نے ایران کا ساتھ دیا۔ جس کے بدلے سنہ 1988 میں صدام حسین بد ترین کرد نسل کشی کا مرتکب ہوتے ہوئے حلب جا پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کرکے سینکڑوں کردوں کو مارنے کا موجب بنا۔

خلیج جنگ میں عراق کے ناکامی کے بعد مصطفیٰ برزانی کے بیٹے مسعود برزانی نے ایک بار پھر سے مسلح بغاوت کا آغاز کیا۔ جو بالآخر عراق میں کردوں کی خودمختاری پر منتج ہوا۔ اسکے بعد جب 2003 میں امریکہ عراق پر حملہ آور ہوا تو کردوں نے صدام کے خلاف امریکیوں کا ساتھ دیا۔ صدام حسین کے شکست کے بعد، بدلے میں کردوں نے ایک نیم خودمختار ریاست حاصل کرلیا اور وہاں ایک اتحادی حکومت کردستان ریجنل گورنمنٹ قائم کردی اور مسعود برزانی 2005 میں کردستان کے صدر بن گئے۔

سنہ 2014 میں جب داعش نے عراق کے ایک وسیع حصے پر قبضہ کیا ہوا تھا تو مسعود برزانی نے کردستان کی فوج پیشمرگہ کو داعش کے خلاف کردوں کے علاقوں سے نکالنے کیلئے بھیج دیا۔ شدید لڑائی کے بعد پیشمرگہ بالآخر کامیاب ہوگیا اور تمام کرد علاقے  پیشمرگہ کنٹرول میں آگئے۔ ان میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جن پر عراقی حکومت اور کرد دونوں دعویٰ کرتے ہیں۔

داعش کے خلاف اس کامیابی اور عالمی حمایت نے کردوں کو عراق میں یہ موقع دینے میں کامیاب ہوگیا کہ وہ اپنے مکمل آزادی کی طرف جائے۔ اس لیئے مسعود برزانی نے 25 ستمبر 2017 کو کرد آزادی کے ریفرینڈم کا اعلان کردیا۔ امریکہ ، برطانیہ، ترکی، ایران اور سعودی عرب وغیرہ جیسے ممالک نے اس ریفرینڈم کی شدید مخالفت کی اور انہیں ریفرینڈم فی الفور روکنے کا کہا۔ ترکی نے پابندیا ں لگانے اور انہیں بھوکا مارنے کی دھمکی تک دی اور عراقی حکومت کے ساتھ مل کر کردستان کے سرحدی علاقوں میں فوجی مشقوں کا آغآز کردیا۔ سعودی عرب اور ایران یوں تو ہر مسئلے پر ایک دوسرے کے دشمن ہیں لیکن کرد مسئلے پر دونوں کا موقف ایک ہی تھا اور انہوں نے بھی ریفرینڈم روکنے کیلئے بھرپور دباو ڈالا۔ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے سوا باقی تمام ممالک ایک آزاد کردستان کے سخت مخالف ہیں۔

اس کے باوجود بالآخر ریفرینڈم کا انعقاد کردیا گیا، جس میں کردوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ریفرینڈم کے نتائج کا اعلان بھی ہوگیا۔ جس کے مطابق ووٹنگ میں 72 فیصد عوام نے شرکت کی۔ جن میں سے تقریباً 93 فیصد نے کردستان کے آزادی کے حق میں ووٹ ڈالا اور 7 فیصد نے مخالفت میں۔

گوکہ اس ریفرینڈم کی قانونی حیثیت نہیں، اسکا مطلب یہ نہیں کہ اب کرد حکومت آزادی کا اعلان کرنے کا پابند ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ریفرینڈم کے بعد اب کردستان ایسے راستے پر چل پڑا ہے جو مکمل آزادی پر منتج ہوگا اور اب عالمی قوتیں اخلاقی طور پر پابند ہوگئے ہیں کہ وہ ایک آزاد کردستان کو تسلیم کریں۔ امریکہ، برطانیہ، ترکی، ایران وغیرہ بھرپور کوشش کریں گے کہ کرد پارلیمنٹ اس ریفرینڈم کو قانونی شکل دے کر نافذ نہیں کرے لیکن اس ریفرنڈم کی وجہ سے اس خطے میں 35 ملین کردوں کے جذبات ایک آزاد ریاست کیلئے اب پہلے سے زیادہ بڑھک رہے ہیں اور انہیں آزادی بہت قریب دِکھائی دے رہی ہے۔ اب شاید ان تمام دباو کے باوجود انہیں روکنا ممکن نہیں ہوگا۔

کرد ریفرینڈم نے نا صرف کردوں کے آزادی کے جذبات کو تقویت دی ہے بلکہ اس ریفرینڈم نے اس خطے کے باقی مظلوم و محکوم اقوام کیلئے بھی امیدوں کو جگایا ہے۔ جن میں سر فہرست بلوچ ہیں۔ کردوں کی طرح بلوچ قوم بھی ایران، پاکستان اور افغانستان کے بیچ بٹا ہوا ہے اور اپنے قومی آزادی سے محروم ہے۔ جہاں قومی آزادی کیلئے ایک طویل اور توانا تحریک چل رہی ہے لیکن کردوں کی طرح وہ اتنے خوش نصیب ثابت نہیں ہوئے ہیں کہ عالمی حمایت اور توجہ حاصل کرلیں۔

امریکہ-عراق جنگ اور داعش کے خلاف جنگ نے کردوں کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ خود کو ایک اسٹیک ہولڈر ثابت کرسکیں۔ اسکے برعکس یکساں اقدار رکھنے والے بلوچ ایک امریکہ مخالف ملک نہیں بلکہ امریکہ کے نان نیٹو اتحادی پاکستان کے زیر قبضہ ہیں اور اسکے جبر کا شکار ہیں۔ اس لیئے انکو خاطر میں نہیں لایا گیا ہے اور وہاں جاری نسل کشی سے آنکھیں پھیر دی گئی ہیں۔

اسکے باوجود، کرد ریفرینڈم نے بلوچ تحریک کیلئے امید کا ایک دیا روشن کردیا ہے۔ بلوچ آزادی پسندوں نے کرد ریفرنڈم کی بھرپور حمایت کی ہے۔ اس ریفرینڈم نے بلوچوں میں یہ امید مزید محکم کردیا ہے کہ طویل جدوجہد اور قربانیاں رائیگاں نہیں جاتی اور بالآخر وہ مقصد تک پہنچا دیتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here